نئی دہلی:21/جولائی(ایس او نیوز/ائی این ایس انڈیا)کسان کے معاملے پر اپوزیشن کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے بی جے پی صدر امت شاہ نے آج کہا کہ مودی حکومت کا 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا ہدف محض ایک سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ ایک مشن ہے اور اسے مکمل کیا جائے گا۔زراعت پر مبنی معیشت سے منسلک بہتری انشورنس کے کردار موضوع پر یہاں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کسانوں کے لئے پہلی بار مرکز کی بی جے پی حکومت کے دوران ہی اس پر مباحثہ اور غور و خوش کی ابتداء ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کسان دنیا کے سب سے زیادہ مستعد کسان ہیں۔ انہیں بہتر زندگی جینے کا حق اور ملک کے معاشی امور میں سالوں سے شراکت کے باعث ایوارڈ بھی حاصل کرنا چاہئے، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ کسانوں کے معاملے پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا ہدف محض ایک سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ ایک مشن ہے اور اس کی شروعات ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاشبہ وزیر اعظم کی قیادت میں ہم 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ جس دن کسانوں کی آمدنی دگنی ہو جائے گی، ملک کی جی ڈی پی میں زراعت کی شراکت خود بہ خود 30 فیصد ہو جائے گی۔شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے فصل انشورنس کے منصوبہ کی کوریج بوائی سے لے کر گودام تک بڑھا یا ہے انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال تک اس کے منصوبہ کا کوریج 40 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا جو بھارت جیسے وسیع ملک کے لئے ایک خوشگوار کامیابی ہے۔امت شاہ نے دعوی کیا کہ سال 2014 سے پہلے جو فصل انشورنس منصوبے چلتے ت ھے ان میں واقعی بینکوں کے سود کا بیمہ ہوتا تھا، وہ عملی طور پر کسانوں اور ان کی فصل کے لئے تو تھا ہی نہیں۔ فصلوں کے انشورنس کاآغاز تو موجودہ مرکزی حکومت کی وزیر اعظم فصل انشورنس کے منصوبہ سے ہوئی ہے۔کسانوں کی بہبودکی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے زرعی فصلوں کی ایم ایس پی کو قیمت قیمت کو ڈیڑھ گنا کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے ۔کئی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت ایم ایس پی تو لاگت قیمت تین تین، چار چار گنا تک بڑھا دی گئی ہے ۔